12 اگست 2026 - 16:25
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 85 ہزار رہائشی یونٹس تباہ کر دیے

جنوبی لبنان میں تقریباً 85 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ تباہی کا دائرہ تاریخی عمارتوں اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل علاقوں تک بھی پھیل گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فائننشل ٹائمز نے غیر منافع بخش تحقیقاتی صحافتی ادارے لائٹ ہاؤس رپورٹس کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق میں جنوبی لبنان کے اسرائیلی قبضے میں موجود علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

تحقیق کے مطابق، دستاویزی طور پر سامنے آنے والی تباہی کا بڑا حصہ 17 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ بندی کے بعد ہوا۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور اسرائیلی غیر فوجی ٹھیکیداروں نے درجنوں سرحدی شہروں اور دیہات میں عمارتوں کو دھماکوں اور دیگر طریقوں سے منہدم کیا۔

جنوبی لبنان میں تقریباً 85 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ تباہی نے تاریخی عمارتوں اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

تازہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے بھی جنوبی لبنان کے دیہات میں بڑے پیمانے پر تباہی کی تصدیق ہوتی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے انہدام اور تباہی کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث خدشات بڑھ گئے ہیں کہ سرحدی علاقے ایسے تباہ شدہ خطے میں تبدیل ہو سکتے ہیں جہاں رہائشیوں کے لیے واپس آنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سینکڑوں عمارتوں، بالخصوص رہائشی مکانات، کی تباہی یا انہیں ناقابلِ رہائش بنانے والے نقصانات دکھائی دیتے ہیں۔ جاری کی گئی ویڈیوز میں بلڈوزروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے عمارتیں منہدم کرنے اور دیہات کے بعض حصوں کو ہموار کرنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی تباہی کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے اور زمینی افواج کا کنٹرول مزید علاقوں تک پھیلتا رہا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنوبی لبنان میں استعمال ہونے والے بعض طریقوں کی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ کے دوران اختیار کی گئی حکمت عملی سے مماثلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان میں بنیادی ڈھانچے اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا، جنگی دباؤ اور صحافیوں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل لبنان کی سرزمین کے اندر ایک نام نہاد ’’سکیورٹی زون‘‘ یا ’’اگلی دفاعی لائن‘‘ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج لبنان کے اندر 10 کلومیٹر تک پیش قدمی کر سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha